
فلسطین کے لیے زکات ادا کرنے میں اجر اور برکت ہے
جب آپ اپنی زکوٰۃ فلسطین کے لیے ادا کرتے ہیں تو زکوٰۃ کی برکت مقدس سرزمین کی برکت سے مل جاتی ہے اور آپ کو دوہرا اجر ملتا ہے۔
زکوٰۃ کے آٹھ مصارف
علماء نے تصدیق کی ہے کہ زکوٰۃ کے آٹھوں مصارف فلسطین میں موجود ہیں۔

ہم زکوٰۃ کو اس کے شرعی مصارف میں تقسیم کرنے کا اہتمام کرتے ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے: ﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ التوبہ: 60.
سورہ توبہ کی آیت 60 میں مذکور آٹھ مصارف میں سے اکثر فلسطین اور بالخصوص القدس کے باشندوں میں پائے جاتے ہیں؛ مقدسیوں کو ان کی زمین پر ثابت قدم رکھنے کے لیے ہر ممکن ذریعے سے کوشش کرنا واجب ہے۔

فلسطین کے لیے زکات کی تعجیل ضروری اور اہم ہے
نبی کریم ﷺ نے حضرت عباسؓ کو زکوٰۃ پہلے ادا کرنے کی رخصت دی۔ حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت عمرؓ سے فرمایا: «ہم نے عباس کی اس سال کی زکوٰۃ پچھلے سال لے لی تھی۔» اکثر اہلِ علم کے نزدیک زکوٰۃ کی پیشگی ادائیگی ایک ماہ سے دو سال سے زائد تک جائز ہے۔
فلسطین کے لیے زکات میں تعجیل کی ضرورت
مسجد اقصیٰ کے مفتی شیخ عکرمہ صبری نے فلسطین کے باشندوں بالخصوص القدس اور غزہ کے لیے زکوٰۃ کی پیشگی ادائیگی کی ضرورت کا فتویٰ دیا ہے، کیونکہ ستر سال سے زائد جاری شہر کی مصیبتوں کے باعث فقراء و مساکین شدید ضرورت مند ہو گئے ہیں۔


